نئی دہلی،30/مارچ(ایس او نیوز) راجستھان ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے 16 سال قبل جے پور میں ہوئے بم دھماکوں کے تمام ملزمین کو بری کردیا ، یہاں تک کہ عدالت نے پختہ ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہنے پر پولس اور اے ٹی ایس اہلکاروں کے خلاف جانچ کی بھی ہدایت دی۔ ملزمین کے لئے ہائی کورٹ کا فیصلہ اس لئے غیر معمولی راحت ہے کہ معاملے کی شنوائی کرنے والی خصوصی عدالت نے اس کیس کے تمام چار ملزمین کو سزائے موت سنائی تھی۔
یاد رہے کہ 13 مئی 2008کو راجستھان کے ثقافتی شہر جئے پور میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے جس میں 71 لوگوں کی موت جبکہ 176لوگ زخمی ہوئے تھے- بم دھماکوں کے الزام میں گرفتار 5 میں سے4 ملزموں کو 20 ڈسمبر 2019 کوجئے پور سیشن عدالت نے قصوروار ٹھہرایا تھا جبکہ ایک ملزم کو تمام الزامات سے بری کردیاتھا، ملزموں پر الزام تھا کہ وہ ممنوعہ دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین کے رکن ہیں اور انہوں نے ہی سلسلہ وار بم دھماکے کئے تھے-
میڈیا میں آئی رپورٹوں کے مطابق سلسلہ واربم دھماکہ معاملے میں بدھ کو جئے پور ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے چار ملزموں کو پھانسی کی سزا دیئے جانے والے فیصلہ پر نظر ثانی کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے پھانسی کی سزا کی تصدیق کی عرضداشت کو خارج کرتے ہوئے ملزموں کی جانب سے داخل اپیل کو قبول کرلیا اور تمام ملزموں کو پھانسی کی سزا سے بری کردیا-
ان بم دھماکوں میں ملزم محمد سیف، محمد سرور اعظمی، سیف الرحمن اور محمد سلمان کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ ملزم شہباز حسین کوناکافی ثبوت وشواہد کی بنیاد پر مقدمہ سے بری کردیا گیا تھا-
ایک جانب جہاں پھانسی کی سزا پانے والے چاروں ملزموں نے نچلی عدالت کے فیصلہ کے خلاف اپیل داخل کی تھی وہیں ریاستی حکومت نے بری ہونے والے شہباز احمد کے خلاف اپیل داخل کی تھی اور عمر قید کی سزاؤں کو پھانسی میں تبدیل کرنے کی اپیل داخل کی تھی جسے عدالت نے خارج کردیا-جئے پورہائی کورٹ کی دورکنی بینچ کے جسٹس پنکج بھنڈاری اور جسٹس سمیر جین نے تمام اپیلوں پر یکجا سماعت کی، تقریباً ساڑھے تین مہینوں تک ہائی کورٹ میں بحث چلی، عدالت نے گذشتہ برس 3 نومبر کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھا-میڈیا رپورٹوں کے مطابق بدھ کو عدالت نے اپنے زبانی حکم نامہ میں تمام ملزموں کو جیل سے فوراً رہا کئے جانے کا حکم جاری کیا ہے، تفصیلی فیصلہ عدالت بعد میں ظاہر کرے گی-